اسلامی جہاد اور غیر مسلموں کی جنگیں

اسلام میں جہاد ایک مقدس فریضہ اور عبادت ہے۔ اسلامی ریاست ہمیشہ جہادی ریاست ہوتی ہے۔ اسلام کی عالمگیر اور ہمہ جہت دعوت کے بدلے میں باطل کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہوتا ہے۔خواہشات کے پجاری اور باطل ادیان و مذاہب کے پیروکار کبھی بھی حقیقی اسلام کی نشرواشاعت گوارا نہیں کرتے۔ اس کے نتیجے میں باہمی کشمکش لازمی امر ہے۔ پیغمبر اسلامﷺ کی حیاتِ طیبہ اس کی واضح مثال ہے۔ مشرکین نے دعوت ِ اسلام کو روکنے کے لیے ہر حربہ اختیار کیا، لیکن ناکام رہے۔آخر نوبت لڑائی تک پہنچ گئی۔ عہد مکی میں حکمت و مصلحت کے تحت کف ید کی پالیس پر عمل کیا گیا۔ مدینہ میں اِذن جہاد ملا۔ بعد میں جہادفرض ہوا۔ آنحضرتﷺنے اسلامی ریاست کے استحکام، ایمان و عقیدے کی حفاظت اور جان و مال کے تحفظ کے لیے جہاد فرمایا۔ عہد نبوی کے غزوات و سرایا کی تعداد تقریباً سو ہے۔
اسلام کے گیارہ سالہمدنی دور میں تقریباً اڑھائی سو اہل ایمان رتبہ شہادت سے سرفراز ہوئے۔ مخالفین کا جانی نقصان تقریباً نو سو تھا۔ فریقین کے مقتولین کی کل تعداد تقریباً ساڑھے گیارہ سو بنتی ہے۔ اس قدر کم جانی نقصان کے بدلے میں پیغمبر اسلامﷺنے انسانیت کو جو مثالی امن و امان فراہم کیا۔آپ ﷺ کی اس جستجو کی بدولت انسانیت کو فکر و عمل کی غلامی سے نجات ملی، انھیں روحانی و جسمانی آزادی نصیب ہوئی۔ مکہ اور مدینہ ہی نہیں تمام عرب امن کا گہوارہ بنا۔ عورت کو مثالی حقوق سے سرفراز کیا گیا۔آنحضرت کے انتہائی مختصر عرصے میں مثالی انقلاب بپا کیا۔ تاریخ انسانی اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔
اسمامی جہاد کے برعکس صلیبی جنگوں اور جنگ عظیم اوّل دوم کی حالت زار ہے۔ ان میں انسانیت پر جو مظالم ڈھائے گئے،اس کی بھی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ ان جنگوں میں سینکڑوں اور لاکھوں میں نہیں بلکہ کروڑوں میں جانی نقصان ہوا۔ دیگر نقصانات تو اعداد و شمار سے بھی باہر ہیں۔ مخالفین پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے۔ بوڑھوں، بچوں اور خواتین تک کو بے دریغ قتل کیا گیا۔ ہر طرف خون کی ندیاں بہائی گئیں۔ ہیروشیما، ناگاساکی کے مظالم جدید تہذیب کے منہ پر نہ مٹنے والی سیاہی ہے۔ ان عالمی جنگوں میں انسانیت تو کیا عبادت گاہیں، شہری آبادیاں، ہسپتال اور تعلیمی مراکز بھی محفوظ نہ رہے۔،شام و عراق، لیبیا، الجزائر، افغانستان اور دیگر متعدد اسلامی ممالک کو تاخت و تاراج کیا گیا۔ ان کے اسباب و متاع پر مکرو فریب سے قبضہ کیا گیا۔ اس طرح کے بہیمانہ ظلم و جبر کی داستان بھی تاریخ میں نہیں ملتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں