حضرت سفیان ثوری کو خواب میں دیدار نبیﷺ

سفیان نام، ابوعبداللہ کنیت، ان کے سلسلۂ نسب میں ایک نام ثوربن مناۃ آتا ہے؛ اسی کی نسبت سے وہ ثوری کہلاتے ہیں (اس تذکرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ثور نام کے دوآدمی تھے، ایک کاتعلق مشہور عرب قبیلہ مضر سے اور دوسرے کا مشہور قبیلہ ہمدان سے، امام سفیان ثوری کے بارے میں عام تذکرہ نویس لکھتے ہیں کہ وہ ثور مضر سے ہیں اور بعض لکھتے ہیں کہ ثور ہمدان سے ہیں) باختلاف روایت ان کی ولادت سلیمان ابن عبد الملک کے زمانۂ خلافت میں سنہ 96،97ھ بمطابق 715ء میں ہوئی (بعض لوگوں نے ان کا سنہ ولادت سنہ95ھ لکھا ہے؛ مگریہ اس لیے غلط ہے کہ اس بات پرسب کا اتفاق ہے کہ وہ سلیمان کی خلافت میں پیدا ہوئے تھے اور سلیمان سنہ96ھ میں تخت خلافت پربیٹھا تھا)۔
حضرت سفیان ثوری سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں بیت اللہ شریف کے طواف کے دوران میری نظر اچانک ایک شخص پر پڑی جو ہر قدم کے اٹھانے پر پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھتا تھا میں نے اسے کہا اے شخص تو تسبیح اور تحلیل کو ترک کر کے صرف درود شریف پڑھنے پر متوجہ ہے کیا تیرے پاس اس کی کوئی خاص وجہ ہے
اس شخص نے کہا عافاک اللہ “خدا تجھے عافیت بخشے”۔
تو کون شخص ہے میں نے کہا میں سفیان ثوری ہوں۔
اس شخص نے کہا اگر آپ پہلے زمانہ میں سے خاص شخصیت نہ ہوتے تو میں اپنے حال کی آپ کو خبر نہ دیتا رب نے بھی مجھ پر آپ کو مطلع کرتا ہے
اس نے بیان کیا میں اور میرا والد حج بیت اللہ کے لئے نکلے مجھے یہاں تک کہ منزلیں طے کرتے کرتے ایک جگہ میرا والد بیمار ہوکر فوت ہوگیا اور اس کا چہرہ سیاہ اور آنکھیں نیلی ہو گی اور پیٹ پھول گیا۔ یہ حال دیکھ کر میں رونے لگا اور ان للہ وانا الیہ راجعون پڑھا میرا باپ سفر کی زمین میں میں ایسی موت مرا پھر میں نے چادر کو کھینچ کر اس کے چہرے کو ڈھانپ دیا۔ اور اس کے بعد مجھ پر نیند کا غلبہ ہوا تو میں سو گیا بحالت خواب میں یکایک کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص جس سے زیادہ خوبصورت چہرہ اور نہایت پاکیزہ لباس اور عمدہ خوشبو میں نے نہیں دیکھی میرے باپ کے نزدیک ہوا پھر اس شخص نے چادر کو میرے باپ کے چہرے سے ہٹایا اور اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا جس وجہ سے میرے باپ کا چہرہ دودھ سے زیادہ سفید ہوگیا پھر اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرا تو پیٹ پہلی حالت میں آگیا۔ پھر اس شخص نے واپس لوٹنا چاہا تو میں اٹھا اس شخص کی چادر پکڑ کر عرض کیا یا سیدی اس ذات کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ جس نے میرے باپ کی طرف مسافرت کی زمین میں تجھے بصورت رحمت بھیجا ہے۔تو کون ہے اس شخص نے کہا تم نے مجھے پہچانا نہیں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں
تیرا باپ بہت زیادہ گناہ گار تھا ہاں ایک بات تھی کہ وہ مجھ پر درود شریف کی کثرت کرتا تھا تھا پر جب اس پر مصیبت نازل ہوئی مجھ سے فریاد کی تو میں اس کی فریاد کو پہنچا چاچا اور میں دائرے دنیا میں اس شخص کی فریاد رسی کرنے والا ہوں جو مجھ پرکثرت سے درود بھیجنے والا ہے اور اس کے بعد میں بیدار ہو گیا دیکھا کہ میرے باپ کا چہرہ سفید ہو گیا ہے اور پیٹ کی سوجن اتر گئی ہے
اے وہ جو مصیبتوں کے اندھیروں میں اس قدر کی دعائیں قبول کرنے والا ہے بیماریوں تکلیفوں کو دور کرنے والے ذلت و مسکنت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میری شفاعت کرنے والے بنا اور میری پردہ پوشی فرما کیونکہ تو بڑے فضل وکرم والا ہے۔
تفسیر روح البیان الجلد السابع ۲۲۵

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں