حضرت جنید بغدادی کا تعارف اور ایمان افروز واقعہ

آپ کا نام نامی اِسم گرامی جنید بن محمد بن جنید ہے۔ آپ کی کنیت ابوالقاسم ہے۔ ’’آپ کا لقب قواریری ہے اور زجاج اور خزار کے لقب سے بھی یاد کیا گیا ہے۔ قواریری اورزجاج اِس اِعتبار سے کہا جاتا تھا کہ آپ کے والد ِگرامی شیشہ فروش تھے‘‘۔ (نفحات الانسان ص۰۸ فارسی)آپ کا مولددراصل نہاوند (اِیران) ہے لیکن آپ بغداد میں پیدا ہوئے۔ ’’حضرت جنید بغدادی حضرت سری سقطی کے بھانجے اور مرید ہیں‘‘۔ (کشف المحجوب ص۷۱۱‘فارسی)
’’آپ اہل ظواہر اور اَربابِ قلب میں مقبول تھے۔ علوم کے تمام فنون میں کامل اور اُصول و فروغ ومعاملات وعبادات میں مفتیء اعظم اور اِمام اصحابِ ثوری تھے۔ تمام اہلِ طریقت آپ کی اِمامت پر متفق ہیں اور کسی مدعی علم وتصوف کو آپ پر اِعتراض واِعراض نہیں ہے‘‘۔ (کشف المحجوب ص۷۱۱‘ فارسی)

حضرت جنید بغدادی ؒکے پاس ایک عورت آئی ، اور پوچھا کے حضرت آپ سے ایک فتویٰ چاہئے کہ اگر کسی مرد کی ایک بیوی ہو تو کیا اس کی موجودگی میں دوسرا نکاح جائز ہے ؟ حضرت جنید بغدادیؒ نے فرمایا بیٹی اسلام نے مرد کو چار نکاح کی اجازت دی ہے،بشرطیکہ چاروں کی بیچ انصاف کر سکے . اس پر اس عورت نے غرور سے کہا کہ حضرت اگر شریعت میں میرا حسن دکھانا جائز ہوتا تو میں آپ کو اپنا حسن دکھاتی اور آپ مجھے دیکھ کر کہتے کہ جس کی اتنی خوبصورت بیوی ہو اسے دوسری عورت کی کیا ضرورت؟؟ اس پر حضرت نے چیخ ماری اور بیہوش ہو گئے – وہ عورت چلی گئی جب حضرت ہوش میں آئے تو مریدین نے وجد کی وجہ پوچھی حضرت نے فرمایا کہ جب عورت مجھے یہ آخری الفاظ کہ رہی تھی
تو الله تعالیٰ نے میرے دل میں یہ الفاظ القا کیے کہ : اے جنید ! اگر شریعت میں میرا حسن دیکھنا جائز ہوتا تو میں ساری دنیا کو اپنا جلوہ کرواتا تو لوگ بے اختیار کہہ اٹھتے کہ جس کا اتنا خوبصورت الله ہو اسے کسی اور کی کیا ضرورت ہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں