رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کی خبر پہلے ہی دے دی تھی

اِبنِ سعد حضرت شعبی سے روایت کرتے ہیں کہ مولا علی علیہ السلام جنگِ صفین کے موقع پر کربلا سے گُزر رہے تھے کہ فرات کے کِنارے پر ٹھہر گئے اور اس زمین کا نام دریافت فرمایا۔لوگوں نے کہا:

” اِس زمین کا نام کربلا ہے۔ ”

” کربلا کا نام سُنتے ہی مولا علی علیہ السلام اس قدر روئے کہ زمین آنسوؤں سے تر ہو گئی۔پِھر فرمایا میں رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک روز حاضر ہُوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم رو رہے ہیں۔میں نے عرض کِیا:

” یارسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ ”
فرمایا:
” ابھی جبریل آئے تھے انہوں نے مجھے خبر دی کہ میرا بیٹا “حُسین” دریائے فرات کے کِنارے اس جگہ پر شہید کِیا جائے گا جس کو ” کربلا ” کہتے ہیں اور وہاں کی مٹی بھی مجھے سونگھائی۔ ”

( صواعق محرقہ،صفحہ ٦٤۱ )

اے مُعاف کرنے والے اللہ🤲
ہم تیرے گُناہ گار خطا کار سیاہ کار نا فرمان بندے اور بندیاں تُجھ سے اپنے تمام گُناہوں معافی مانگتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں، ہماری توبہ قبول فرمالے۔ ہم تیری آزمائشوں کے قابل نہیں ہیں تو ہمیں اپنی رحمتوں سے نواز دے ہم پر رحم فرمادے بیشک ہر چیز تیرے دائرہ اختیار میں ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا مہر بان ہے آمین یا رب العالمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں