حضرت امام احمد بن حنبل،اور سونے کا پہاڑ

امام احمد بن حنبل ربیع الاول 164ھ میں پیدا ہوئے۔ عبداللہ کہتے ہیں۔ میں نے اپنے والد سے سنا۔ آپ فرمایا کرتے تھے میں 164ھ کے ربیع الاول میں پیدا ہوا ہوں۔ آپ عجمی نہ تھے بلکہ خالص عربی تھے۔ ماں باپ دونوں کی طرف سے شیبانی تھے۔ شیبان بھی عدنانی قبیلہ ہے جو ترا ابن معدابن عدنان کے واسطے سے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مل جاتا ہے۔ یہ قبیلہ بہادری، شجاعت، حمیت اور غیرت کے اعتبار سے بہت ممتاز رہا ہے۔ امام احمد کی رگوں میں بہادر باپ کا خون جوش مار رہا تھا۔ عزت نفس، عزم، ارادہ صبرو تحمل اور مصائب کے برداشت کی عادت اپنے خاندان سے وارثت میں پائی تھی۔ ایمان راسخ دل میں موجیں مار رہا تھا۔ جب بھی آفات و ابتلاء سے دوچار ہوتے اس وقت یہ خصوصیات اور بھی نمایاں ہوجاتیں اور ایک نکھار سا پیدا ہوجایا کرتا۔ پھر خداوند عالم نے ایسے اسباب بھی پیدا کردیئے تھے کہ ان کے موروثی خصائل کا نشوونما ہوتا رہا۔ آپ کے ابتدائی حالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ امام احمد نے اوائل عمری ہی میں محسوس کرلیا تھا کہ وہ تنہا ہیں چونکہ بچپن میں باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور ماں کی گود سے بھی محروم ہوگئے باپ کے انتقال کے وقت آپ بالکل چھوٹے سے تھے اور کہا کرتے تھے:
’’میں نے اپنے باپ کو دیکھا نہ دادا کو‘‘۔
بلکہ مشہور تو یہ ہے کہ والد کی وفات آپ کی ولادت کے بعد ہی ہوگئی تھی۔ آپ کے والد کی عمر اس وقت تیس سال کی ہوگی۔ ظاہر ہے اس وقت آپ چھوٹے سے ہوں گے۔ نہ کسی چیز کا احساس تھا نہ شعور، باپ کے بعد ماں نے بڑے پیار سے پالا اور پرورش شروع کردی۔ باپ کا ترکہ بھی کچھ زیادہ نہ تھا۔ بغداد میں ایک گھر اور صرف اتنی زمین جہاں سے تھوڑی بہت آمدنی مل جاتی تھی۔ امام موصوف کو اللہ تعالیٰ نے یہ پانچ صفات ایسی عطا فرمائی تھیں جنہوں نے ان کی شخصیت اور سیرت کی تعمیر میں بڑی مدد دی۔
حضرت امام احمد بن حنبل ؒ ایک بار کسی بیا بان سے گزررہے تھے کہ آپ راستہ بھول گئے ، آپ نے بیا بان میں ایک شخص کو دیکھا کہ جو ایک گوشے میں بیٹھا ہوا تھا ۔ آپ نے سوچا کہ اس شخص سے راستہ دریافت کروں ۔ چنانچہ آپ اس کے پاس گئے ۔وہ حضرت امام کو دیکھ کر رونے لگا ۔ حضرت امام صاحب نے سوچا کہ شاید یہ بھوکا ہے آپ نے اس خیال سے اسے اپنے پاس سے کچھ روٹی دینا چاہی ۔ وہ شخص بہت خفا ہوا اور کہنے لگا ۔ اے احمد بنحنبل !تو کون ہے جو میرے اور خدا کے درمیان دخل دیتا ہے ۔ کیا تو خدا کے کاموں پر راضی نہیںہے؟ اس لیے تو راستہ بھی بھولتا ہے ۔

حضرت امام احمد اس کے کلام سے بڑے متاثر ہوئےاور دل میں کہنے لگے ۔ الہٰی ! دنیا میں تیرے ایسے ایسے بندے بھی پوشیدہ ہیں ۔ اس شخص نے کہا ۔ اے احمد حنبل کیا سوچتے ہو ۔ اس خدائے پاک کے ایسے ایسے بندے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کو قسم دے کر چاہیں تو تمام زمین اور پہاڑا ان کے واسطےسونے کے ہو جائیں ۔ حضرت امام احمد حنبل نے جو نظر کی تو تمام روئے زمین اور پہاڑ انہیں سونے کے نظر آنے لگے ۔ پھر آپ نے ایک آواز سنی کہ اے احمد ! یہ شخص ہمارا ایسا مقبول بندہ ہے کہ اگر چاہے تو ہم اس کی خاطرے زمین و آسمان کو الٹ پلٹ کر دیں ( تذکرہ الاولیا 262)

ایک دفعہ حضرت عیسٰی علیہ السلام بارش کی دعا مانگنے کے لئے نکلے۔ جب آپ علیہ السلام صحرا میں پہنچے تو اعلان فرمایا کہ میرے ساتھ ایسا شخص نہ آئے جس نے کوئی گناہ کیا ہو۔ یہ سن کر سوائے ایک شخص کے سب پلٹ گئے۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام نے اس سے پوچھا تم نے کوئی گناہ نہیں کیا؟ اس نے جواب دیا: حضور! مجھے اپنا کوئی گناہ یاد نہیں سوائے اس کے کہ ایک دن میں نماز پڑھ رہا تھا پاس سے ایک عورت گزری تو میں نے اُسے اِس آنکھ سے دیکھا، اس کے گزر

جانے کے بعد ندامت مجھے پر غالب آئی اور میں نے انگلی سے وہ آنکھ نکال کر اُس عورت کے پیچھے پھینک دی یہ سن کر حضرت عیسٰی علیہ السلام نے فرمایا تم اللہ عزوجل سے دعا کرو میں تمھاری دعا پر آمین کہوں گا۔ جب انہوں نے دعا مانگی تو آسمان پر بادل چھا گئے بارش برسنے لگی اور لوگ سیراب ہو گئے ۔(سبحان اللہ )(احیاء العلوم جلد اول)آج کے دور میں تو یہ حال ہو چکا ہے کہ ہم کسی کی ماں، بہن ، بیٹی پر بری نظر ڈالنے کو گناہ سمجھتے ہی نہیں۔ اس وقت ایک لمحہ کے لئے بھی یہ نہیں سوچتے کہ ہماری بری نظر اللہ عزوجل کی ناراضگی کا باعث بان سکتی ہے۔ کسی کی ماں، بہن بیٹی پر بری نظر ڈالنے سے پہلے صرف اتنا سوچ لیا جائے کہ اگر یہی کام کوئی اور ہماری اپنی ماں بہن یا بیٹی کے لئے کرے گا تو ہمیں کیسا لگے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں