گھروں میں جھگڑے کی وجوہات

بہت سی گھریلو مشکلات کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہمارے گھروں میں فرشتوں کا آنا جانا نہیں رہتا۔ اگر کسی گھر میں فرشتوں کا آنا جانا رہے وہ گھر بہشت رہتا ہے۔
اب ہم کیا کریں کہ فرشتے ہمارے گھروں میں رہیں اور کن چیزوں سے پرہیز کیا جائے تاکہ کہیں فرشتے چلے نہ جائیں ؟
1 – حدیث کساء کی زیادہ تلاوت کی جائے۔
2- کوشش کریں اوّل وقت میں نماز ادا کریں۔
3- نماز قضا نہ کریں اس کا بھت برا اثر ہوتا ہے۔
4- کوئی نجس چیز گھر میں نہ رکھیں سارا گھر پاک رہنا چاہیے.
5- فرشتے جس گھر میں چیخ و پکار یا بلند آواز میں بات کی جاتی ہے اس گھر سے چلے جاتے ہیں.
6- گھر میں برے الفاظ استعمال نہ کریں۔ گالیوں،جھوٹ غیبت اور توھین وغیرہ سے پرھیز کیا جائے۔
7- کوشش کریں گھر میں اپنی آنکھوں، کانوں اور پیٹ کو حرام سے بچائیں۔
8- جب گھر میں داخل ہوں تو سلام کریں چاہے گھر میں کوئی بھی موجود نہ ہو۔
حضرت امام علی رض کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور ہاتھ جوڑ کر عرض کرنے لگی !! یا علی ؑ ہمارے گھر میں جھگڑے بہت ہوتے ہیں، کوئی کسی سے محبت نہیں کرتا اور رزق میں تنگی رہتی ہے حضرت علیؑ سے عورت نے پوچھا ایسا کیوں ہوتا ہے؟ عورت کا سوال سنتے ہی امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے فرمایا اے ورت !! جب تم اللہ کا رزق پکاتے ہو تو کچھ نیچے تو نہیں گرتا ؟یہ سوال سن کر عورت نے عرض کیا ہاں علیؑ جب جب میں دودھ اُبالتی ہوں تو وہ تھوڑا سا گر جاتا ہے . بس عورت کا یہ کہنا تھا کہ حضرت علی رض نے فرمایا: اے عورت یاد رکھنا کہ جب تم اللہ کا دیا گیا رزق گراؤ گی اور جلاؤ گی تو اس سے گھر میں بے سکونی ، جھگڑے ، نفرت اور رزق میں تنگی کے اسباب پیدا ہوں گے . دودھ کو ابال کر پینا چاہئے
یکن ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ دودھ ابل کر زمین پر نہ گرے تم اپنی اس عادت پر قابو پا لو اللہ کے کرم سے تمہارے گھر میں سکون ، محبت اور برکت آجائے گی. حضرت علیؑ کی بات سنتے ہی عورت گھر گئی اور آئندہ اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو ضائع ہونے سے بچانے لگی اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے اپس کے گھر میں خوشخالی اور ہر طرف سکون ہوگیا. سبق: اپنے گھر میں اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو ضائع ہونے سے بچائیں ، شکریہ ، التماس دعا: حضرت امام علی رض کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور ہاتھ جوڑ کر عرض کرنے لگی !! یا علی ؑ ہمارے گھر میں جھگڑے بہت ہوتے ہیں، کوئی کسی سے محبت نہیں کرتا اور رزق میں تنگی رہتی ہے . حضرت علیؑ سے عورت نے پوچھا ایسا کیوں ہوتا ہے؟ عورت کا سوال سنتے ہی امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے فرمایا اے عورت !! جب تم اللہ کا رزق پکاتے ہو تو کچھ نیچے تو نہیں گرتا ؟
یہ سوال سن کر عورت نے عرض کیا ہاں علیؑ جب جب میں دودھ اُبالتی ہوں تو وہ تھوڑا سا گر جاتا ہے. بس عورت کا یہ کہنا تھا کہ حضرت علی رض نے فرمایا: اے عورت یاد رکھنا کہ جب تم اللہ کا دیا گیا رزق گراؤ گی اور جلاؤ گی تو اس سے گھر میں بے سکونی ، جھگڑے ، نفرت اور رزق میں تنگی کے اسباب پیدا ہوں گے. دودھ کو ابال کر پینا چاہئے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ دودھ ابل کر زمین پر نہ گرے تم اپنی اس عادت پر قابو پا لو اللہ کے کرم سے تمہارے گھر میں سکون ، محبت اور برکت آجائے گی. حضرت علیؑ کی بات سنتے ہی عورت گھر گئی اور آئندہ اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو ضائع ہونے سے بچانے لگی اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے اپس کے گھر میں خوشخالی اور ہر طرف سکون ہوگیا. سبق: اپنے گھر میں اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو ضائع ہونے سے بچائیں ، شکریہ ، التماس دعا: مدینہ میں آکر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخالف گروہ نے آرام سے بیٹھنے نہ دیا. وئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا، جب تک اس کا تعلیمی نظام بہتر نہ ہو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں