درود کس موقع پر فرض ہوتا ہے

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر خیر سن کر درود:
نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کا ذکر سن کر درود پڑھنا فرض ہے، کیوں کہ ایسے شخص کے بارے میں وعید وارد ہوئی ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر سنتا ہے لیکن درود نہیں پڑھتا، جیسا کہ:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رغم أنف رجل دكرت عنده؛ فلم يصل علي.
”اس آدمی کا ناک خاک آلود ہو، جس کے سامنے میرا تذکرہ ہو، لیکن وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۔“ [مسند الإمام أحمد : 254/2؛ سنن الترمذي: 3545؛ فضل الصلاة على النبى للقاضي إسماعيل :16، و سندهٔ حسن]
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن غریب“ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (908) نے ”صحیح“ کہا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت یوں بیان ہوئی ہے:
صعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر، فلما وضع رجله على مرقاة قال : ”آمين“، ثم صعد، فقال : ”آمين“، ثم صعد، فقال : ”آمين“، فقال : أتاني جبريل، فقال : من أدرك شهر رمضان؛ فمات فلم يغفر له، فابعدهٔ الله، قلت : آمين، قال: ومن ادرك ابويه او حدهما؛ فمات فلم يغفر له، فابعدهٔ الله، قلت : آمين، قال: ومن ذكرت عنده فلم يصل عليك، فأبعده الله، قلت : آمين
”رسول اکرم صلى الله عليه وسلم منبر پر جلوہ افروز ہوئے۔ جب پہلی سیڑھی پر پاؤں مبارک رکھا تو آمین کہا، پھر (دوسری سیڑی پر) چڑھے تو دوبارہ آمین کہا، پھر (تیسری سیڑھی پر) چڑھے تو پھر آمین کہا۔ پھر ارشاد فرمایا: میرے پاس جبریل آئے تھے اور (جب میں پہلی سیڑھی پر چڑھا تو) انہوں نے کہا: جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس حالت میں مر جائے کہ (رمضان کی عبادت کی وجہ سے) اس کی مغفرت نہ ہو سکے تو اللہ تعالی اسے اپنی رحمت سے دور کر دے۔ میں نے آمین کہا۔ (جب میں دوسری سیڑھی پر چڑھا تو) انہوں نے کہا: جو شخص اپنے ماں باپ دونوں کو یا کسی ایک کو پائے، پھر اس حالت میں مر جائے کہ (ان کی خدمت کی بنا پر) اس کی مغفرت نہ ہو سکے تو اسے بھی اللہ تعالی اپنی رحمت سے دور کر دے۔ میں نے آمین کہا۔ (جب میں تیسری سیڑھی پر چڑھا تو) انہوں نے کہا: جس شخص کے پاس آپ کا ذکر ہو اور وہ آپ پر درود نہ پڑ ھے، اسے بھی اللہ تعالی اپنی رحمت سے دور کر دے۔ اس پر بھی میں سے آمین کہا۔“ [المعجم الأوسط للطبراني :8131؛ مسند أبى يعلٰي : 5922، و سندهٔ حسن]
ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم رقي المنبر، فقال : ”آمين، آمين، آمين“، فقيل لهٔ : يا رسول الله، ما كنت تصنع هذا، فقال : قال لي جبريل: أرغم الله أنف عبد۔ أو بعد۔ دخل رمضان فلم يغفر له، فقلت آمين، ثم قال : رغم أنف عبد۔ أو بعد۔ ادرك والديه او احدهما لم يدخله الجنة، فقلت : آمين، ثم قال : رغم أنف عبد۔ أو بعد۔ ذكرت عنده فلم يصل عليك، فقلت : آمين
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے تو تین دفعہ آمین کہا۔ پوچھا گیا کہ اللہ کے رسول! آپ پہلے تو ایسا نہیں کرتے تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: مجھے جبریل علیہ السلام نے کہا: اللہ تعالی اس شخص کو ذلیل کرے جو رمضان میں موجود ہو لیکن اس کی مغفرت نہ ہو سکے۔ میں نے آمین کہا۔ پھر جبریل علیہ السلام نے کہا: وہ شخص بھی ذلیل ہو، جو اپنے ماں باپ دونوں کو یا ان میں سے کسی ایک کو پائے لیکن ان کی خدمت اسے جنت میں داخل نہ کرے۔ میں نے آمین کہا۔ پھر جبریل علیہ السلام نے کہا: وہ شخص بھی ذلیل ہو جائے جس کے پاس آپ کا ذکر ہو لیکن وہ آپ پر درود نہ پڑھے۔ میں نے اس پر بھی آمین کہا۔‘‘
[صحيح ابن خزيمة:1888، و سندهٔ حسن]
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ”احضروا المنبر“، فحضرنا، فلما ارتقى درجة قال: ”آمين“، فلما ارتقى الدرجة الثانية قال: ”آمين“، فلما ارتقى الدرجة الثالثة قال: آمين، فلما نزل قلنا: يا رسول الله، لقد سمعنا منك اليوم شيئا ما كنا نسمعه، قال : إن جبريل عليه الصلاة والسلام عرض لي، فقال: بعدا لمن أدرك رمضان فلم يغفرله، قلت : آمين، فلما رقيت الثالثة قال : بعدا لمن ذكرت عنده فلم يصل عليك قلت آمين، فلما رقيت الثالثة قال : بعدا لمن أدرك أبواه الكبر عنده أو أحدهما فلم يدخلاه الجنة، قلت : آمين .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منبر لاؤ۔ ہم منبر لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی سیڑھی پر چڑھے اور آمین کہا۔ جب دوسری سیڑھی پر چڑھے تو آمین کہا۔ جب تیسری سیڑھی پر چڑھے تو پھر آمین کہا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! آج ہم نے آپ سے ایسی چیز سنی ہے، جو پہلے نہیں سنتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور فرمایا: اس شخص کے لیے ہلاکت ہو، جو رمضان کو پائے لیکن اس کی مغفرت نہ ہو سکے۔ میں نے آمین کہہ دیا۔ جب میں دوسری سیڑھی پر چڑھا تو جبریل علیہ السلام نے کہا: وہ شخص بھی ہلاک ہو، جس کے پاس آپ کا تذکرہ ہو، لیکن وہ آپ پر درود نہ پڑھے۔ میں نے آمین کہا۔ جب میں تیسری سیڑھی پر چڑھا تو جبریل علیہ السلام نے کہا: وہ شخص بھی ہلاک ہو، جس کے پاس اس کے والدین یا دونوں میں سے کوئی ایک بوڑھا ہو اور وہ اس کے جنت میں داخلے کا سبب نہ بن سکیں۔ میں نے پھر آمین کہہ دیا۔“ [ المستدرك على الصحيحين لالحاكم : 153/4، و سندهٔ حسن]
امام حاکم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ”صحیح الاسناد‘‘ اور حافظ ذہبی نے ”صحیح“ کہا ہے۔
ان کی احادیث کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ سن کر درود پڑھنے کا وجوب ثابت ہوتا ہے۔

علامہ ابوعبد اللہ، حسین بن حسن، حلیمی رحمہ اللہ (م :403ھ) فرماتے ہیں:
قد تظاهرت الأخبار بوجوب الصلاة عليه كلما جرى ذكره، فإن كان يثبت اجماع يلزم الحجة بمثله على ان ذلك غير فرض، وإلا فهو فرض.
”بہت سی احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جب بھی آپ صلى الله عليه وسلم کا تذکرہ ہو، آپ پر درود پڑھنا فرض ہے۔ اگر ایسا معتبر اجماع ثابت ہو جائے کہ یہ فرض نہیں تو (یہ مستحب ہو جائے گا)، ورنہ یہ فرض ہی ہے۔‘‘ [شعب الإيمان للبيهقي : 149/3]
آخری تشھد میں درود فرض ہے :
آخری تشہد میں درود پڑھنا فرض و واجب ہے۔
سیدنا ابومسعود انصاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
أقبل رجل حتى جلس بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن عنده , فقال : يا رسول الله , أما السلام عليك فقد عرفناه , فكيف نصلي عليك إذا نحن صلينا في صلاتنا ؟ قال : فصمت رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى أحببنا أن الرجل لم يسأله , ثم قال : إذا صليتم علي فقولوا : اللهم صل على محمد النبي الأمي وعلى آل محمد , كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم , وبارك على محمد النبي الأمي وعلى آل محمد , كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد
”ایک شخص آیا اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سامنے بیٹھ گیا۔ ہم بھی آپ صلى الله عليه وسلم کے پاس ہی موجود تھے۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام کا طریقہ تو ہم جان چکے ہیں لیکن جب نماز میں ہم آپ پر درود پڑھنا چاہیں تو کس طرح پڑھیں؟ اللہ آپ پر رحمت نازل فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے حتی کہ ہم نے خواہش کی، کاش یہ شخص آپ سے سوال نہ کرتا۔ (پھر) آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جب تم مجھ پر درود پڑھو تو یوں کہو: اے اللہ ! نبی امی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما، جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر رحمت نازل فرمائی تھی، نیز تو نبی اُمی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل پر برکت نازل فرما، جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر برکت نازل فرمائی تھی۔ بلاشبہ تو قابل تعریف اور بڑی شان والا ہے۔“
[مسند الإمام احمد: 119/4؛ سنن الدارقطني :354/1، 355، و سندهٔ حسن]
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ [711] اور امام ابن حبان [1959] رحمها اللہ نے ”صحیح“ کہا ہے۔
امام حاکم رحمہ اللہ (268/1) نے اسے ”امام مسلم کی شرط پر صحیح“ کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا إسناد حسن متصل. ”یہ سندحسن اور متصل ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وإن تشهد ولم يصل على النبى صلى الله عليه وسلم، أو صلى على النبى صلى الله عليه وسلم، ولم يتشهذ؛ فعليه الإعادة حتى يجمعها جميعا
”اگر کوئی شخص تشہد پڑھے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود تو پڑھے، لیکن تشہد نہ پڑھے، اس پر نماز دوبارہ پڑ ھنا واجب ہے، حتی کہ تشہد اور درود دونوں کو جمع کر لے۔“ [الأم :117/1، باب التشهد والصلاة على النبى صلى الله عليه وسلم]
امام محمد بن مواز، مالکی رحمہ اللہ (م:281ھ) کا بھی یہی موقف ہے۔
[أحكام والقرآن لابن العربي : 623/3، حسن المحاضرة فى تاريخ مصر والقاهرة للسيوطي : 310/1]
علامہ ابن العربی، مالکی رحمہ اللہ (468۔543ھ) لکھتے ہیں:
والصحيح ما قاله محمد بن المواز للحديث الصحيح
”صحیح حدیث کی بنا پر جو بات محمد بن مواز نے کہی ہے، وہی ہے صحیح ہے۔“ [احكام القرآن : 623/3]
امام ابو اسحاق، ابراہیم بن احمد، مروزی رحمہ اللہ (م:340ھ) فرماتے ہیں:
أنا أعتقد أن الصلاة على آل النبى صلى الله عليه وسلم واجبة فى التشهد الأخير من الصلاة.
”میرا اعتقاد یہ ہے کہ نماز کے آخری تشہد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر درود پڑھنا واجب ہے۔“ [شعب الإيمان للبيهقي : 150/3 وسندۂ حسن]
◈ امام ابو بکر، محمد بن حسین آجری (م:360ھ) فرماتے ہیں:
واعلموا رحمنا الله وإياكم، لو أن مصليا صلى صلاة، فلم يصل على النبى صلى الله عليه وسلم فيها فى تشهده الأخير، وجب عليه إعادة الصلاة.
”اللہ ہم پر اور آپ پر رحم کرے، یہ جان لیجیے کہ اگر کوئی نمازی نماز پڑھے، لیکن اس کے آخری تشہد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھے تو اس پر نماز کو دوبارہ پڑھنا فرض ہے۔“ [الشريعة 1403/3]

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں