اذان کو خاموشی سے متعلق سننے کے بارے احکامات،احادیث کی روشنی میں

حضور صلی اللہ لیے وسلم نے فرمایا: “جب تم مؤذن کو سنو تو تم بھی وہی الفاظ کہو جو وہ کہہ رہا ہے، پھر مجھ پر درود بھیجو ؛ کیوں کہ جو مجھ پر ایک درودبھیجتاہے ﷲ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ پھر اﷲ سے میرے لیے وسیلہ مانگو وہ جنت میں ایک درجہ ہے جو اﷲ کے بندوں میں سے ایک ہی کے مناسب ہے مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں گا، جو میرے لیے وسیلہ مانگے اس کے لیے میری شفاعت لازم ہے”
۔ ایک حدیث شریف میں مذکور ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیانی وقت میں کی جانے والی دعا رد نہیں کی جاتی ہے، اس لیے اس حدیث کی رو سے اگر اذان کے بعد مسنون دعا اور درود شریف کے پڑھنے کے بعد اقامت تک اپنی کسی حاجت کے واسطے جو بھی دعا مانگی جائی، اس کی قبولیت کی زیادہ امید ہے۔ اذان کے بعد دعا کی یہ بھی فضیلت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں