اذان کا جواب دینے کی فضیلت

ترجمہ حدیث: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! جب تم اس حبشی کی اذان اور اقامت سنو تو اس طرح کہو جس طرح یہ کہے۔ بے شک تمہارے لیے ہر حرف کے بدلے دس لاکھ نیکیاں ہوں گی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ جَعْفَرٍعَنْ عُقْبَةَ بْنِ كَثِيرٍعَنْ خِرَاشٍعَنِ ابْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ بَيْنَ صَفِّ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِذَا سَمِعْتُنَّ أَذَانَ هَذَا الْحَبَشِيِّ وَإِقَامَتِهِ فَقُلْنَ كَمَا يَقُولُ، فَإِنَّ لَكُنَّ بِكُلِّ حَرْفٍ أَلْفَ أَلْفَ دَرَجَةٍ فَقَالَ عُمَرُ: هَذَا لِلنِّسَاءِ فَمَا لِلرِّجَالِ؟ قَالَ: ضِعْفَانِ يَا عُمَرُثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ مِنِ امْرَأَةٍ أَطَاعَتْ وَأَدَتْ حَقَّ زَوْجِهَا وَ تَذْكُرُ حُسْنَهُ وَلَا تَخُونَهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِ إِلَّا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الشُّهَدَاءِ دَرَجَةً وَاحِدَةً فِي الْجَنَّةِ، فَإِنْ كَانَ زَوْجُهَا مُؤْمِنًا حَسَنَ الْخُلُقِ فَهِيَ زَوْجَتُهُ فِي الْجَنَّةِ وَإِلَّا زَوَّجَهَا اللَّهُ مِنَ الشُّهَدَاءِ (۲)
ترجمہ: میمونہ رضی اللّٰہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن نبی ﷺ مردوں اور عورتوں کی صفوں کے درمیان کھڑے ہو گئے اور کہا: اے عورتوں کی جماعت! جب تم اس حبشی کی اذان اور اقامت سنو تو تم بھی اسی کی طرح کہنا، کیونکہ ہر لفظ کے بدلے تمہارے ہزار ہزار درجے بلند کیے جائیں گے تو عمر رضی اللّٰہ عنہ نے کہا: یہ تو عورتوں کے لیے ہے مردوں کے لیے کیا اجر ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا: دگنا اجر ہے اے عمر! پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عورتوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی اطاعت کرتی ہے، اس کا حق ادا کرتی ہے، اس کی اچھائی بیان کرتی ہے اور اپنے نفس اور اس کے مال میں خیانت نہیں کرتی تو جنت میں اس کے اور شہداء کے درمیان صرف ایک درجے کا فرق ہوگا، اگر اس کا شوہر مومن، اچھا اخلاق والا ہوگا تو وہ جنت میں بھی اس کا شوہر ہوگا ورنہ اللہ تعالیٰ اس کا نکاح شہداء میں سے کسی سے کرا دے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں