جنت

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ان کے اچھے اچھے اعمال کا اپنے فضل و کرم سے بدلہ اور انعام دینے کے لئے آخرت میں جو شاندار مقام تیار کر رکھا ہے اُس کا نام جنت ہے اور اُسی کو بہشت بھی کہتے ہیں۔ جنت میں ہر قسم کی راحت و شادمانی و فرحت کا سامان موجود ہے۔ سونے چاندی اور موتی و جواہرات کے لمبے چوڑے اور اُونچے اُونچے محل بنے ہوئے ہیں اور جگہ جگہ ریشمی کپڑوں کے خوبصورت و نفیس خیمے لگے ہوئے ہیں۔ ہر طرف طرح طرح کے لذیذ اور دل پسند میوؤں کے گھنے، شاداب اور سایہ دار درختوں کے باغات ہیں۔
اور ان باغوں میں شیریں پانی، نفیس دودھ، عمدہ شہد اور شرابِ طہور کی نہریں جاری ہیں۔ قسم قسم کے بہترین کھانے اور طرح طرح کے پھل فروٹ صاف ستھرے اور چمکدار برتنوں میں تیار رکھے ہیں ۔ اعلیٰ درجے کے ریشمی لباس اور ستاروں سے بڑھ کر چمکتے اور جگمگاتے ہوئے سونے چاندی اور موتی و جواہرات کے زیورات ، اونچے اونچے جڑاؤ تخت ، اُن پر غالیچے اورچاندنیاں بچھی ہوئی اور مسندیں لگی ہوئی ہیں۔ عیش و نشاط کے لئے دنیا کی عورتیں اورجنت کی حوریں ہیں جو بے انتہا حسین و خوبصورت ہیں
جنتوں کی تعداد آٹھ ہے جن کے نام یہ ہیں۔
1۔ دارالجلال
2۔ دارالقرار
3۔ دارالسلام
4۔ جنۃ عدن
5۔ جنۃ الماویٰ
6۔ جنۃ الخلد
7۔ جنۃ الفردوس
8۔ جنۃ النعیم
حدیث شریف میں ہے کہ جنت کے سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان ایک سو برس کی راہ ہے
جنت کے باغوں کے بارے میں حضوراکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ مؤمن جب جنت میں داخل ہو گا تو وہ ستر ہزار ایسے باغات دیکھے گا کہ ہر باغ میں ستر ہزار درخت ہوں گے اور ہر درخت پر ستر ہزار پتے ہوں گے اور ہر پتے پر یہ لکھا ہوگا:
لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ اُمَّۃٌ مُّذْنِبَۃٌ وَّرَبٌّ غَفُوْرٌ
اور ہر پتے کی چوڑائی مشرق سے مغرب تک کے برابر ہوگی۔
جنت میں شیریں پانی، شہد ، دودھ اور شراب کی نہریں بہتی ہیں۔ جب جنتی پانی کی نہر میں سے پئیں گے تو انہیں ایسی حیات ملے گی کہ پھر انہیں موت نہ آئے گی اور جب دودھ کی نہر میں سے نوش کریں گے تو ان کے بدن میں ایسی فربہی پیدا ہو گی کہ پھر کبھی لاغر نہ ہوں گے اور جب شہد کی نہر میں سے پی لیں گے تو انہیں ایسی صحت و تندرستی مل جائے گی کہ پھر کبھی وہ بیمار نہ ہوں گے اور جب شراب کی نہر میں سے پلائے جائیں گے تو انہیں ایسا نشاط اور خوشی کا سرور حاصل ہو گا کہ پھر کبھی وہ غمگین نہ ہوں گے۔
یہ چاروں نہریں ایک حوض میں گر رہی ہیں جس کا نام”حوضِ کوثر” ہے یہی حوض حضورِ اکرم ﷺ کا وہ حوضِ کوثر ہے جو ابھی جنت کے اندر ہے لیکن قیامت کے دن میدانِ محشر میں لایا جائے گا، جہاں حضور اکرم ﷺ اس حوض سے اپنی اُمت کو سیراب فرمائیں گے۔
اِن چاروں نہروں کے علاوہ جنت میں دوسرے چشمے بھی ہیں جن کے نام یہ ہیں:
1۔ کافور
2۔ زنجبیل
3۔ سلسبیل
4۔ رحیق
5۔ تسنیم۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں