اللہ ہم سے راضی ہے یا نہیں،جاننے کے لیے پوسٹ پڑھیں

ہر چیز کی اپنی کچھ نشانیاں اور علامتیں ہوتی ہیں جس سے وہ پہچانی جاتی ہے اور چونکہ اللہ تعالٰی نے اپنی رضا اور اپنی خوشی کو بندے پر اپنی سب سے عظیم نعمت کے طور پر یاد کیا ہے ایسی نعمت جس کا کسی دوسری چیز سے مقائسہ نہیں کیا جاسکتا۔اور اکثر لوگوں کے دل میں کبھی نہ کبھی یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں، پورا رمضان روزہ رکھتے ہوئے ہوگئے تو کیا خدا ہم سے راضی ہوا یا نہیں چنانچہ روایات میں اللہ کے اپنے کسی بندے سے راضی رہنے کی کچھ علامات بیان کی گئی ہیں جن سے انسان مطمئن ہوسکتا ہے کہ اس کا پروردگار اس سے خوش ہے یا نہیں:
اگر آپکے دل میں علم سیکھنے کا شوق، دین کی محبت دل میں آگئی ہے تو خوش ہوجائیے کہ اللہ آپ سے راضی ہوگئے۔ کیونکہ قرآن خود کہتا ہے فَمَن يُرِدِ اللَّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلاَمِ۔ جسکو اللہ پسند کرتے ہیں تو اللہ اسکے سینے کو اسلام کی نعمت کیلئے کھول دیتے ہیں۔ علم کی محبت، علم والوں کی محبت، اسلام کی محبت، نیکی اور عبادت کی محبت اور خیر کے کاموں کی محبت اگر دل میں آجائے تو یہ اللہ کے پسندیدہ بننے کی علامت ہے
اگر آپ کے اندر نرمی آگئی ہے ، آپ بات بات پر غصہ نہیں ہوتے ، نہ گھر میں نہ باہر اور لہجے میں نرمی آگئی ہے تو سمجھ لیں اللہ نے آپکو پسند کرلیا ہے۔کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ إذا أرادَ اللهُ بأهلِ بيْتٍ خيرًا أدخلَ عليهِمُ الرِّفْقَ کہ اللہ جب کسی گھر کیساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں، کسی کو اپنا پسندیدہ بنانا چاہتے ہیں تو اس گھر میں نرمی کو لے آتے ہیں۔ انکے مزاج نرم، انکی باتیں نرم اور انکا تعامل نرم ہوجاتا ہے۔ نرمی ان پر غالب آجاتی ہے۔ اور جس کے پاس نرمی نہ ہو تو ایسے شخص کیلئے حدیث میں آیا جسکا مفہوم ہےکہ جو شخص نرمی سے محروم ہوگیا تو گویا وہ ہربھلائی سے محروم ہوگیا۔
اگر آپ کے دل میں مسلمانوں کی خیر خواہی آجائے۔ ہمدردی آجائے، مسلمانوں کے کام آنا ۔ مسلمانوں کی مصیبتوں کو اپنی مصیبت سمجھنا، اور انکے دل میں خوشی پیدا کرنے کی خاص تڑپ پیدا ہوجائے تو بس سمجھ لیں کہ آپ اللہ کے پسندیدہ بن گئے ہیں۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وَاَللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ۔ جو بندہ کسی کے کام میں لگ جاتا ہے ، کسی مجبور کی مجبوری اور تکلیف دور کرنے کیلئے تو ایسے شخص کیلئے اللہ فرماتے ہیں کہ یہ میرا بندہ ہے، میرا محبوب ہے، میں اسکے کام کرونگا اور اس پر اللہ فرشتوںکو لگا دیتے ہیں۔ تو اب جب یہ تین نشانیاں آپ کے اندر نظر آجائیں تو اللہ تعا لی آپکی دعاؤں کو بھی قبول فرمائیں گے اور پھر اللہ رب العزت آپکو دنیا کا محبوب بھی بنائیں گے ۔ دنیا آپ سے ملاقات کی بھی خواہش کرے گی اور آپ کی زبان سے نکلی ہوئی باتوں کو بھی اللہ تعالی قبول فرمائیں گے۔ اور سب سے بڑا انعام یہ کہ جو اللہ کے فیصلوں پر راضی ہوتا ہے تو اللہ اسکو حسن ختمہ سے نوازتے ہیں۔ اسکا خاتمہ بالخیر ہوتا ہے

اللہ کی اطاعت میں لطف

ایک مرتبہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا:’’ : یَا رَبِّ أَخْبِرْنِی عَنْ آیَةِ رِضَاکَ مِنْ عَبْدِکَ‘‘۔پروردگار! مجھے ان نشانی سے آگاہ کر جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ تو اپنے بندے سے خوش ہے؟
’’فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَیْهِ إِذَا رَأَیْتَنِى أُهَیِّئُ عَبدِىْ بِطَاعَتِى وَ أُصرِفُهُ عَنْ مَعْصِیَتِى فَذالک آیةُ رِضَائِىْ‘‘۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:جب تم یہ پاؤ کہ میں اپنے بندے کو اپنی اطاعت و بندگی کے لئے آمادہ کررہا ہوں اور اسے گناہ سے دور رکھ رہا ہوں تو یہی میرے اس سے خوش اور راضی رہنے کی نشانی ہے۔
بندے کا قضا و قدر الہی پر راضی رہنا
حدیث کی روشنی میں کسی بندے کا اپنے پروردگار کی قضا و قدر اور فیصلوں پر راضی رہنا اور اس کے کسی فیصلے کے خلاف حرف شکایت زبان پر نہ لانا اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ اس بندے سے خوش ہے۔ چنانچہ امام علی علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے:’’عَلامَة رِضَا اللَّه سُبْحانَهُ عَنِ العَبْدِ رِضاهُ بِمَا قَضَی بِه سُبحانَه لَهُ و عَلَیه‘‘۔
اپنے بندے سے اللہ کی رضا کی علامت یہ ہے کہ وہ اللہ کے ہر فیصلہ پر راضی اور تسلیم رہے چاہے وہ فیصلہ اس کے فائدے میں ہو یا نقصان میں۔

مساکین کی محبت

ایک دیگر روایت میں ملتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالٰی کی بارگا میں عرض کیا:’’یَا رَبِّ أَخْبِرْنِی عَنْ آیَةِ رِضَاکَ مِنْ عَبْدِکَ‘‘ پروردگار!اپنے بندے سے تیرے خوش رہنے کی نشانی کیا ہے؟
’’فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَیْهِ إِذَا رَأَیْتَ نَفْسَکَ تُحِبُّ الْمَسَاکِینَ وَ تُبْغِضُ الْجَبَّارِینَ فَذَلِکَ آیَةُ رِضَایَ‘‘۔
اللہ تعالٰی نے ان پر وحی نازل فرمائی: اے موسٰی جب تم اپنے دل میں مساکین کی محبت اور ظالمین سے نفرت کو محسوس کرو تو سمجھ لینا کہ ہم راضی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں